24 اپریل 2012 - 19:30

مصر کي حکمراں فوجي کونسل نے پارليمنٹ کے اس بل کي توثيق کردي ہے جس ميں سابق ڈکٹيٹر حکومت کي باقيات کي سياسي سرگرميوں پر پابندي لگائي گئي ہے۔

ابنا:  يہ بل پارليمنٹ نے  رواں مہينے ميں متفقہ طور پر منظور کيا تھا اور اس کا مقصد سابق ڈکٹيٹر حکومت کے انيٹيليجنس چيف عمر سليمان اور وزير اعظم احمد شفيق جيسے لوگوں کو صدارتي اليکشن ميں حصہ لينے سے روکنا ہے۔ قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مصر کي حکمراں فوجي کونسل نے اس کي توثيق کردي ہے اور دوبارہ منظوري کے لئے پارليمنٹ ميں بھيج ديا ہے۔ اب تک يہ واضح نہيں ہوسکا ہے کہ آيا يہ بل بروقت قانون ميں تبديل ہوسکے گا تاکہ اس کي روسے مبارک حکومت ميں اہم عہدوں پر رہنے والے افراد  صدارتي اليکشن کے لئے نا اہل ہوجائيں۔ عمر سليمان کو بعض ديگر وجوہات کي بنا پر پہلے ہي نا اہل قرار ديا جاچکا ہے اور اب اگر جمعرات سے پہلے يہ بل قانون ميں تبديل ہوجا تا ہے تو مبارک حکومت کے وزير ا‏عظم احمد شفيق کا نام بھي صدارتي اميدواروں کي فہرست سے خارج ہوجائے گا۔ مصر ميں تئيس اور چوبيس مئي کو صدارتي اليکشن ميں ووٹنگ ہوگي اور ضرورت پڑنے پر سولہ اور سترہ جون کو دوسرے مرحلے ميں ووٹ ڈالے جائيں گے۔.......

/169